مسند احمد ۔ جلد اول ۔ حدیث 387

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ قَالَ إِنَّكَ غَبَنْتَنِي فَمَا أَلْقَى مِنْ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي قَالَ أَوَ ذَلِكَ يَمْنَعُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا

عطاء بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کوئی زمین خریدی، لیکن جب اس کی طرف سے تاخیر ہوئی تو انہوں نے اس سے ملاقات کی اور اس سے فرمایا کہ تم اپنی رقم پر قبضہ کیوں نہیں کرتے؟ اس نے کہا کہ آپ نے مجھے دھوکہ دیا، میں جس آدمی سے بھی ملتا ہوں وہ مجھے ملامت کرتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم صرف اس وجہ سے رکے ہوئے ہو؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، فرمایا پھر اپنی زمین اور پیسوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے لو (اگرتم اپنی زمین واپس لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو اور اگر پیسے لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو) کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔

یہ حدیث شیئر کریں