سنن ابوداؤد ۔ جلد اول ۔ نماز کا بیان ۔ حدیث 862

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ فرائض کا نقصان نوافل سے پورا کر لیا جائے گا

راوی: یعقوب بن ابراہیم , اسمعیل , یونس , حسن , انس بن حکیم صنبی زیاد یا ابنِ زیاد سے بچ کر مدینہ میں آئے وہاں ابوہریرہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِيمٍ الضَّبِّيِّ قَالَ خَافَ مِنْ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَی الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ فَقَالَ يَا فَتَی أَلَا أُحَدِّثُکَ حَدِيثًا قَالَ قُلْتُ بَلَی رَحِمَکَ اللَّهُ قَالَ يُونُسُ وَأَحْسَبُهُ ذَکَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمْ الصَّلَاةُ قَالَ يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِکَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا فَإِنْ کَانَتْ تَامَّةً کُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ کَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَی ذَاکُمْ

یعقوب بن ابراہیم، اسماعیل، یونس، حسن، حضرت انس بن حکیم صنبی زیاد یا ابنِ زیاد سے بچ کر مدینہ میں آئے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے نسب معلوم کیا تو میں نے نسب بیان کر دیا۔ ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا اے جوان کیا میں تجھ سے ایک حدیث بیان کر نہ دوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، ضرور بیان کرو اللہ تم پر رحم فرمائے۔ یونس نے کہا میر اخیال ہے انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی فرمایا قیامت کے دن تمام اعمال میں سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا تو ہمارا پروردگار فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، دیکھو! میرے بندہ کی نماز کامل ہے یا ناقص؟ اگر وہ کامل ہوگی تو کامل ہی لکھ دی جائے گی۔ (یعنی اس کا ثواب پورا لکھا جائے گا) اگر اس میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی تو اللہ فرشتوں سے فرمائے گا دیکھو میرے بندہ کے پاس نفل بھی ہیں؟ اگر نفل ہوں میرے بندہ کے فرائض کی کمی اس کے نوافل سے پوری کر دو۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح لیا جائے گا۔ (یعنی فرض کی کوتاہی کو نفل سے پورا کر لیا جائے گا)

Narrated AbuHurayrah:
Anas ibn Hakim ad-Dabbi said that he feared Ziyad or Ibn Ziyad; so he came to Medina and met AbuHurayrah. He attributed his lineage to me and I became a member of his lineage.
AbuHurayrah said (to me): O youth, should I not narrate a tradition to you? I said: Why not, may Allah have mercy on you?
(Yunus (a narrator) said: I think he narrated it (the tradition) from the Prophet (peace_be_upon_him):) The first thing about which the people will be called to account out of their actions on the Day of Judgment is prayer. Our Lord, the Exalted, will say to the angels – though He knows better: Look into the prayer of My servant and see whether he has offered it perfectly or imperfectly. If it is perfect, that will be recorded perfect.
If it is defective, He will say: See there are some optional prayers offered by My servant. If there are optional prayer to his credit, He will say: Compensate the obligatory prayer by the optional prayer for My servant. Then all the actions will be considered similarly.

یہ حدیث شیئر کریں