مسلمانوں کی مثال کھیت کی مانند ہے۔
راوی:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ تُعَدِّلُهَا مَرَّةً وَتُضْجِعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْخَامَةُ الضَّعِيفُ
حضرت کعب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کی مثال ایک ایسے کمزور کھیت کی طرح ہے جس سے تیز ہوا گزرتی ہے تو اسے کبھی سیدھا کردیتی ہے اور کبھی لٹادیتی ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اور کافر کی مثال اس کھیت کی طرح ہے جو اپنی جڑ کے سہارے کھڑا رہتا ہے اسے کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ ایک مرتبہ اکھڑ جاتا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ خامہ سے مراد کمزور ہوناہے۔