ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کے حکم کے بیان میں
راوی: عبداللہ بن مسملہ بن قعنب معتمر بن سلیمان رقبہ بن مسقلہ اسحاق سعید بن جبیر ابن عباس ابی بن کعب
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ کَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَکُفْرًا
عبداللہ بن مسملہ بن قعنب معتمر بن سلیمان رقبہ بن مسقلہ اسحاق سعید بن جبیر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا وہ بچہ جسے حضرت خضر نے مار ڈالا تھا وہ فطرةً ہی کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کردیتا۔
Ubayye b. Ka'b reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: The young man whom Khadir killed was a non-believer by his very nature and had he survived he would have involved his parents in defiance and unbelief.