موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب مختلف بابوں کے بیان میں ۔ حدیث 1731

سوال سے بچنے کا بیان

راوی:

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَائٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ رَدَدْتَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا ذَلِکَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُکَهُ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَأْتِينِي شَيْئٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ

عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کے پاس کچھ مال بھیجا حضرت عمر نے اس کو پھیر دیا پوچھا تم نے کیوں پھیر دیا حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے حضرت عمر نے کہا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لونگا ۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a gift to Umar ibn al-Khattab, and Umar returned it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Why did you return it?" He said, "Messenger of Allah, didn't you tell us that it is better for us not to take anything from anyone?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "That is by asking. Provision which Allah gives you is different from asking." Umar ibn al-Khattab said, "By the One in whose hand my self is, I will not ask anything from anyone, and anything that comes to me without my asking for it, I will accept."

یہ حدیث شیئر کریں