صحیح مسلم ۔ جلد سوم ۔ سلام کرنے کا بیان ۔ حدیث 1304

بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں

راوی: محمد بن مثنی , ابن بشار محمد بن جعفر , شعبہ , قتادہ , انس بن مالک , انس بن مالک

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بد شگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے نیک شگونی پسند ہے عرض کیا گیا فال کیا ہے ارشاد فرمایا پاکیزہ اور عمدہ بات۔

Anas b. Malik reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me. It was said: What is good omen? He said: Sacred words.

یہ حدیث شیئر کریں